پتھر کا دل

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - سنگ دل، بے رحم، سخت دل۔ 'اے باپ شاید آپ کا دل پتھر کا ہے۔"      ( ١٩٢٤ء، تذکرۃ الاولیا، ٢٣٢ )

اشتقاق

سنسکرت سے ماخوذ اسم 'پتھر' بطور مضاف الیہ کے ساتھ 'کا' بطور حرفِ اضافت اور دل بطور مضاف لگانے سے مرکب اضافی بنا۔ اردو میں سب سے پہلے ١٨٨٩ء میں 'سالک (مخزن المحاورات)" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - سنگ دل، بے رحم، سخت دل۔ 'اے باپ شاید آپ کا دل پتھر کا ہے۔"      ( ١٩٢٤ء، تذکرۃ الاولیا، ٢٣٢ )

جنس: مذکر